Skip to main content

کعبۃ اللہ کے قریب نصب بھورے پتھر: مصلّٰی جبرائیل سے منسوب ایک تاریخی روایت

 بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے نگاہیں عموماً حجرِ اسود، ملتزم، مقامِ ابراہیم اور غلافِ کعبہ کی جانب رہتی ہیں، اس لیے بہت سے زائرین کعبہ کے نچلے حصے میں موجود بھورے مائل بہ زرد سنگِ مرمر کے چھوٹے ٹکڑوں کو دیکھے بغیر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ پتھر ایک قدیم تاریخی روایت سے منسوب کیے جاتے ہیں۔

بابِ کعبہ کے دائیں جانب، کعبۃ اللہ کے نچلے بیرونی کنارے یعنی شاذروان میں آٹھ مخصوص سنگِ مرمر کے ٹکڑے نصب نظر آتے ہیں۔ اس جگہ کو بعض تاریخی بیانات میں “المعجن” کہا گیا ہے، جبکہ عوامی اور روایتی طور پر اسے “مصلّٰی جبرائیل” کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

اس نسبت کے پیچھے یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ واقعۂ اسراء و معراج کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اسی مقام کے قریب رسول اللہ ﷺ کو نماز کے اوقات اور ان کی عملی ادائیگی کی تعلیم دی تھی۔ احادیث میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کی جانب سے نبی کریم ﷺ کو نماز کے اوقات سکھانے کا ذکر موجود ہے، مگر موجودہ پتھروں کو واضح طور پر اسی واقعے کی نشانی قرار دینے والی کوئی صریح شرعی دلیل بیان نہیں کی جاتی۔

ان پتھروں کے متعلق تاریخی طور پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ عام سنگِ مرمر نہیں، بلکہ ایک نادر قسم کے پتھر ہیں، جنہیں بعض روایات میں “میری اسٹون” کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔ یہ نسبت بھی بیان کی جاتی ہے کہ عباسی دور میں خلیفہ ابو جعفر المنصور نے انہیں مسجد الحرام کے لیے بطور تحفہ پیش کیا تھا۔

یہ مقام حرمِ مکی کی تاریخ سے وابستہ ان خاموش نشانیوں میں سے ہے جو صدیوں پرانی روایات کی یاد تازہ کرتی ہیں۔ تاہم ایسے مقامات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے احتیاط ضروری ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی جانب سے نبی کریم ﷺ کو نماز کے اوقات کی تعلیم دینا اسلامی روایت میں معروف واقعہ ہے، لیکن ان مخصوص پتھروں کو قطعی طور پر “مصلّٰی جبرائیل” قرار دینا تاریخی نسبت کے دائرے میں آتا ہے، نہ کہ قرآنِ مجید یا کسی واضح صحیح حدیث کے صریح بیان کے طور پر۔

حرم شریف میں موجود ایسی نشانیاں ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ بیت اللہ صرف عبادت کا مرکز ہی نہیں، بلکہ اسلامی تاریخ، عقیدت اور امت کی محفوظ روایات کا بھی عظیم مرکز ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

حج کے ایامِ ذوالحجہ: مزدلفہ سے جمرات، رمی، طوافِ زیارت، قربانی اور قصر تک مکمل رہنمائی

  مقدس مقامات کے درمیان تقریبی فاصلے حج کے دنوں میں راستے، سیکیورٹی کنٹرول، بس/ٹرین اسٹیشن، گروپ روٹ اور پیدل چلنے کے راستے مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے فاصلے ہمیشہ تقریباً سمجھے جائیں۔ Hajj 2026 راستہ تقریباً فاصلہ منیٰ سے مزدلفہ 3 سے 5 کلومیٹر مزدلفہ سے جمرات 4 سے 6 کلومیٹر منیٰ کے خیموں سے جمرات 1.5 سے 4 کلومیٹر، خیمے کی جگہ کے مطابق جمرات سے مسجد الحرام 5 سے 7 کلومیٹر منیٰ سے مسجد الحرام 6 سے 9 کلومیٹر، راستے کے مطابق حج کے دنوں میں یہ فاصلے عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ رش، گرمی، انتظار، مخصوص راستے، پل، انڈر پاس، چیک پوائنٹس اور گروپ موومنٹ شامل ہو جاتی ہے۔ اسی لیے حاجی کو جسمانی تیاری، پانی، آرام، صبر اور اپنے معلم/گروپ کی ہدایات کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ مزدلفہ میں رات گزارنا 9 ذوالحجہ کو جب حجاجِ کرام عرفات میں وقوف مکمل کر کے مغرب کے بعد روانہ ہوتے ہیں تو ان کی اگلی منزل مزدلفہ ہوتی ہے۔ یہ حج کے سفر کا ایک نہایت بابرکت اور اثر انگیز مرحلہ ہے۔ مزدلفہ میں حاجی کھلے آسمان تلے قیام کرتا ہے، جہاں سادگی، عاجزی اور اللہ تعالیٰ کے حضور بندگی کا احساس اور ...

The DECE Way

 In today’s digital age, organizations are generating data at an unprecedented rate. From emails and documents to cloud storage and internal databases, the sheer volume of information can be overwhelming. However, having data is only half the battle; the real challenge lies in extracting meaningful insights quickly, securely, and efficiently. This is where DECE Software’s GEODI platform comes into play—a powerful solution designed to transform the way businesses manage, analyze, and leverage their data. GEODI is an advanced data discovery, search, and analytics platform that brings order to complex data ecosystems. Unlike traditional search tools that rely solely on keyword matching, GEODI uses artificial intelligence and natural language processing to understand the context of information, making searches intuitive and precise. Whether you are searching for a single document buried in thousands or analyzing trends across multiple datasets, GEODI delivers results in seconds,...

12 ذوالحجہ بروز جمعہ: حجاجِ کرام کے لیے نمازِ جمعہ، رمی، طوافِ زیارت اور سفری رہنمائی

12 ذوالحجہ حج کے اہم دنوں میں سے ایک ہے۔ اس دن حجاجِ کرام منیٰ میں قیام کے دوران رمیِ جمرات ادا کرتے ہیں، جبکہ جن حضرات کا طوافِ زیارت یا سعی باقی ہو وہ اس کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔ چونکہ اس موقع پر رش، آمدورفت اور مختلف فقہی مسائل سے متعلق سوالات بھی سامنے آتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ حجاج سکون، ترتیب اور معتبر رہنمائی کے مطابق اپنے اعمال مکمل کریں۔ جن حجاج نے قربانی اور حلق یا قصر مکمل کر لیا ہے، ان کے لیے احرام کی بیشتر پابندیاں ختم ہو چکی ہوتی ہیں اور تلبیہ بھی بند ہو جاتا ہے۔ تاہم طوافِ زیارت ادا ہونے تک ازدواجی تعلق سے متعلق پابندی باقی رہتی ہے۔ اسی طرح حدودِ حرم میں موجود ہونے کی وجہ سے حرم کی حرمت اور وہاں کے آداب کا احترام ہر حال میں ضروری ہے۔ اگر 12 ذوالحجہ جمعہ کے دن ہو اور حجاجِ کرام منیٰ میں موجود ہوں تو فقہِ حنفی کی رہنمائی کے مطابق منیٰ میں نمازِ جمعہ قائم کی جا سکتی ہے۔ حنفی فقہ پر عمل کرنے والے حجاج اپنے خیموں میں باجماعت نمازِ جمعہ کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ اگر خیمے میں کوئی عالمِ دین موجود ہو تو وہ خطبہ دے کر نمازِ جمعہ پڑھا دیں۔ عالمِ دین کی عدم موجودگی میں ایسا ...