Skip to main content

حج کے ایامِ ذوالحجہ: مزدلفہ سے جمرات، رمی، طوافِ زیارت، قربانی اور قصر تک مکمل رہنمائی

 

مقدس مقامات کے درمیان تقریبی فاصلے

حج کے دنوں میں راستے، سیکیورٹی کنٹرول، بس/ٹرین اسٹیشن، گروپ روٹ اور پیدل چلنے کے راستے مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے فاصلے ہمیشہ تقریباً سمجھے جائیں۔

Hajj 2026

راستہتقریباً فاصلہ
منیٰ سے مزدلفہ3 سے 5 کلومیٹر
مزدلفہ سے جمرات4 سے 6 کلومیٹر
منیٰ کے خیموں سے جمرات1.5 سے 4 کلومیٹر، خیمے کی جگہ کے مطابق
جمرات سے مسجد الحرام5 سے 7 کلومیٹر
منیٰ سے مسجد الحرام6 سے 9 کلومیٹر، راستے کے مطابق

حج کے دنوں میں یہ فاصلے عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ رش، گرمی، انتظار، مخصوص راستے، پل، انڈر پاس، چیک پوائنٹس اور گروپ موومنٹ شامل ہو جاتی ہے۔ اسی لیے حاجی کو جسمانی تیاری، پانی، آرام، صبر اور اپنے معلم/گروپ کی ہدایات کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔


مزدلفہ میں رات گزارنا

9 ذوالحجہ کو جب حجاجِ کرام عرفات میں وقوف مکمل کر کے مغرب کے بعد روانہ ہوتے ہیں تو ان کی اگلی منزل مزدلفہ ہوتی ہے۔ یہ حج کے سفر کا ایک نہایت بابرکت اور اثر انگیز مرحلہ ہے۔ مزدلفہ میں حاجی کھلے آسمان تلے قیام کرتا ہے، جہاں سادگی، عاجزی اور اللہ تعالیٰ کے حضور بندگی کا احساس اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔

مزدلفہ پہنچنے کے بعد حجاج عموماً مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد کچھ وقت ذکر، دعا، تلبیہ اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں گزرتا ہے، جبکہ باقی رات آرام کے لیے رکھی جاتی ہے تاکہ اگلے دن کے اہم مناسک کے لیے قوت بحال ہو سکے۔

10 ذوالحجہ کی صبح فجر کی نماز مزدلفہ میں ادا کی جاتی ہے۔ نماز کے بعد دعا، استغفار اور ذکر کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہی وہ موقع ہے جب حاجی اللہ تعالیٰ سے مغفرت، قبولیتِ حج، آسانی اور خیر کی دعائیں مانگتا ہے۔

اسی مقام سے حجاج جمرات کے لیے کنکریاں بھی جمع کرتے ہیں۔ اگلے دن یعنی عید کے روز حاجی نے جمرہ عقبہ کی رمی، قربانی، حلق یا قصر، اور پھر طوافِ زیارت جیسے اہم اعمال انجام دینے ہوتے ہیں۔ اس لیے مزدلفہ کی رات صرف قیام نہیں بلکہ اگلے مرحلے کی روحانی اور عملی تیاری بھی ہے۔


کنکریاں جمع کرنا

مزدلفہ میں حاجی جمرات کے لیے کنکریاں جمع کرتا ہے۔ 10 ذوالحجہ کو صرف جمرہ عقبہ / جمرہ کبریٰ کو سات کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ اس لیے پہلے دن کے لیے کم از کم سات کنکریاں درکار ہوتی ہیں، مگر عموماً حاجی پورے ایامِ تشریق کے لیے بھی کنکریاں جمع کر لیتے ہیں۔

کنکریاں بہت بڑی نہیں ہونی چاہئیں؛ عام طور پر چنے یا کھجور کی گٹھلی کے قریب چھوٹی کنکری مناسب سمجھی جاتی ہے۔ مقصد ستون کو زور سے مارنا نہیں، بلکہ سنت کے مطابق رمی کرنا ہے۔ کنکری حوض میں گرنی چاہیے، صرف ستون یا دیوار کو لگ جانا کافی نہیں سمجھا جاتا اگر وہ حوض میں نہ گرے۔


مزدلفہ سے جمرات کا سفر

10 ذوالحجہ کی صبح مزدلفہ سے منیٰ اور جمرات کی طرف سفر شروع ہوتا ہے۔ یہ دن حج کا بہت مصروف دن ہے، کیونکہ اسی دن رمی، قربانی، حلق یا قصر، احرام سے جزوی آزادی، اور پھر طوافِ زیارت جیسے اہم اعمال انجام دیے جاتے ہیں۔

مزدلفہ سے جمرات تک پیدل فاصلہ تقریباً 4 سے 6 کلومیٹر ہو سکتا ہے، مگر اصل راستہ حاجی کے قیام، گروپ روٹ، سیکیورٹی انتظامات اور وقت کے مطابق بدل سکتا ہے۔ حاجی کو چاہیے کہ اکیلا نہ نکلے، اپنے گروپ کی ہدایات پر عمل کرے، جلد بازی نہ کرے، پانی ساتھ رکھے اور شدید رش میں دھکم پیل سے بچے۔


شیطان کو کنکریاں مارنا: رمی جمرات

10 ذوالحجہ کو حاجی صرف بڑے جمرہ یعنی جمرہ عقبہ / جمرہ کبریٰ کو سات کنکریاں مارتا ہے۔ ہر کنکری مارتے وقت “بسم اللہ، اللہ اکبر” کہنا مستحب ہے۔ رمی کا مقصد شیطان کی حقیقی ذات کو پتھر مارنا نہیں، بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت، شیطان کی وسوسہ اندازی کے مقابلے میں استقامت، اور اللہ کے حکم کے سامنے مکمل فرمانبرداری کی یاد تازہ کرنا ہے۔

رمی کرتے وقت چند باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:

رمی سکون سے کریں، غصے یا شور شرابے سے نہیں۔
جوتے، بوتلیں، چھتریاں یا بڑی چیزیں پھینکنا درست نہیں۔
کنکری حوض میں گرنی چاہیے۔
کمزور، بیمار یا معذور حاجی کسی کو وکیل بنا سکتے ہیں، بشرطیکہ شرعی عذر ہو۔
اپنے مقررہ وقت اور گروپ شیڈول کی پابندی کریں۔

جمرات پر کنکریاں مارنے کا صحیح طریقہ

10 ذوالحجہ، یعنی عید کے پہلے دن، حاجی صرف بڑے جمرہ کو کنکریاں مارتا ہے، جسے جمرہ عقبہ یا جمرہ کبریٰ کہا جاتا ہے۔ اس دن پہلے، دوسرے اور تیسرے تینوں جمرات کو کنکریاں نہیں ماری جاتیں، بلکہ صرف بڑے جمرہ کو سات کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ ہر کنکری مارتے وقت “اللہ اکبر” کہنا بہتر ہے۔ 10 ذوالحجہ کو بڑے جمرہ کی رمی کے بعد وہاں کھڑے ہو کر لمبی دعا نہیں کی جاتی، بلکہ حاجی وہاں سے آگے بڑھ جاتا ہے۔

البتہ 11، 12 اور اگر حاجی منیٰ میں ٹھہرے تو 13 ذوالحجہ کو تینوں جمرات کی رمی کی جاتی ہے۔ ان دنوں ترتیب یہ ہوتی ہے کہ پہلے چھوٹے جمرہ کو سات کنکریاں ماری جاتی ہیں، پھر ایک طرف ہو کر قبلہ رخ دعا کی جاتی ہے۔ اس کے بعد درمیانی جمرہ کو سات کنکریاں ماری جاتی ہیں، پھر دوبارہ ایک طرف ہو کر دعا کی جاتی ہے۔ آخر میں بڑے جمرہ کو سات کنکریاں ماری جاتی ہیں، لیکن بڑے جمرہ کے بعد دعا کے لیے نہیں ٹھہرا جاتا، بلکہ حاجی وہاں سے واپس چلا جاتا ہے۔

اس طرح 10 ذوالحجہ کو صرف بڑے جمرہ کی رمی ہوتی ہے، جبکہ 11، 12 اور 13 ذوالحجہ کو تینوں جمرات کی رمی کی جاتی ہے۔ پہلے اور دوسرے جمرہ کے بعد دعا کرنا مسنون طریقہ ہے، مگر تیسرے یعنی بڑے جمرہ کے بعد دعا کے لیے رکنا سنت سے ثابت نہیں۔

10 ذوالحجہ کو رمی کے بعد حاجی تلبیہ کہنا بند کر دیتا ہے۔ اس کے بعد اگلا اہم عمل قربانی ہے۔


10 ذوالحجہ، پہلے دنِ عید کی قربانی

10 ذوالحجہ کو حج تمتع اور حج قران کرنے والے حاجی پر ہدی/قربانی واجب ہوتی ہے، جبکہ حج افراد کرنے والے کے لیے قربانی لازم نہیں بلکہ مستحب ہو سکتی ہے، فقہی تفصیل کے مطابق۔ قرآن مجید میں حج تمتع کرنے والے کے لیے قربانی کا ذکر سورۃ البقرہ 2:196 میں آتا ہے، جسے حج گائیڈز بھی اسی ترتیب میں بیان کرتے ہیں۔

سنت ترتیب یہ ہے:

رمی جمرہ عقبہ → قربانی → حلق یا قصر → طوافِ زیارت



آج کل اکثر حجاج کی قربانی بینک، حج مشن، سرکاری نظام یا مجاز اداروں کے ذریعے ہوتی ہے۔ ایسے میں حاجی کو اپنی رسید، تصدیق یا گروپ کی اطلاع کا خیال رکھنا چاہیے۔ خاص طور پر جو حضرات فقہِ حنفی کے مطابق عمل کرتے ہیں، ان کے نزدیک ترتیب کی اہمیت زیادہ بیان کی جاتی ہے؛ لہٰذا اگر قربانی کے وقت کی تصدیق کا مسئلہ ہو تو اپنے مستند عالم یا گروپ کے مفتی سے پہلے ہی رہنمائی لے لینی چاہیے۔

قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنی خواہشات، مال، انا اور نفس کو قربان کرنے کا عہد ہے۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم اطاعت کی یاد ہے۔

رمی کے بعد جمرات سے مکتب واپسی کا راستہ

رمی مکمل کرنے کے بعد اپنے مکتب واپس جاتے وقت راستے کا خاص خیال رکھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ جمرات کے علاقے میں رش، مختلف فلورز، بند راستے اور زونز کی وجہ سے معمولی سی غلطی بھی کئی کلومیٹر اضافی پیدل چلنے کا سبب بن سکتی ہے۔

الراجحی زون 2، 4 اور 5

الراجحی کے زون 2، 4 اور 5 کے حجاج اگر گراؤنڈ فلور یا فرسٹ فلور پر رمی کریں تو واپسی کے لیے بائیں جانب مڑ کر روڈ نمبر 50، یعنی ملک فیصل روڈ کی طرف جائیں۔

کبریٰ عبداللہ سے پہلے پول نمبر 44/50 کے قریب زون 2 کے حجاج دائیں طرف مڑ کر اپنے مکتب والی گلی میں داخل ہوں گے۔

زون 4 اور زون 5 کے حجاج اسی راستے پر سیدھا آگے بڑھیں گے۔ جب 511 چوک آئے تو اگر کراسنگ کھلی ہو تو وہاں سے اپنے مکتب کی طرف جا سکتے ہیں۔ اگر کراسنگ بند ہو تو سیدھا چلتے رہیں، جہاں آگے کراسنگ کھلی ملے وہاں سے یا کبریٰ فیصل کے اوپر سے کراس کر کے اپنی سڑک لیں اور مکتب واپس پہنچیں۔

رواف کے تمام مکاتب

رواف کے حجاج کسی بھی فلور پر رمی کریں، مکتب واپس جانے کے لیے دائیں جانب مڑ کر روڈ نمبر 68، یعنی ملک فہد روڈ کی طرف جائیں۔

زون 5 کے حجاج اسی روڈ پر چلتے ہوئے اپنے مکتب تک پہنچ جائیں گے۔ زون 6 کے حجاج روڈ 68 سے آگے جا کر پیدل راستہ، یعنی طریق مشاہ 15، استعمال کریں گے اور وہاں سے اپنے مکتب کی طرف جائیں گے۔

اہم احتیاط

جمرات سے واپسی کے وقت جلد بازی نہ کریں، اپنے گروپ کے ساتھ رہیں اور روٹ بورڈز، پول نمبرز اور زون کی ہدایات کو غور سے دیکھیں۔ ایک چھوٹی سی غلط سمت 5 سے 10 کلومیٹر اضافی پیدل سفر کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے بہتر ہے کہ روانگی سے پہلے اپنے مکتب، زون اور واپسی کے راستے کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔

Jamaraat Hajj 2026

حلق یا قصر: بال منڈوانا یا کٹوانا

قربانی مکمل ہونے کے بعد حاجی اگلے اہم عمل کی طرف بڑھتا ہے، جسے حلق یا قصر کہا جاتا ہے۔ حلق کا مطلب ہے سر کے بال مکمل طور پر منڈوانا، جبکہ قصر سے مراد بالوں کو کٹوانا ہے۔ مرد حجاج کے لیے حلق کو زیادہ فضیلت والا عمل سمجھا جاتا ہے، تاہم قصر بھی جائز ہے۔

خواتین کے لیے حکم مختلف ہے۔ وہ سر نہیں منڈواتیں بلکہ اپنے بالوں کے کنارے سے تھوڑا سا حصہ کاٹتی ہیں۔ یہ عمل بھی حج کے مناسک کا حصہ ہے اور اس کے ذریعے حاجی احرام کی کئی پابندیوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔

حلق یا قصر کے بعد حاجی کے لیے بہت سی چیزیں جائز ہو جاتی ہیں، مثلاً عام لباس پہننا، خوشبو استعمال کرنا، ناخن کاٹنا اور دیگر معمولات کی طرف واپس آنا۔ اس مرحلے کو تحللِ اول کہا جاتا ہے۔ البتہ ازدواجی تعلقات کی مکمل اجازت طوافِ زیارت کے بعد حاصل ہوتی ہے۔

حج کے اعمال کی بہتر ترتیب یہ ہے کہ پہلے جمرہ عقبہ کی رمی کی جائے، پھر قربانی کی جائے، اس کے بعد حلق یا قصر کیا جائے، اور پھر طوافِ زیارت کے لیے حرم شریف کا رخ کیا جائے۔

حلق یا قصر صرف ظاہری عمل نہیں بلکہ عاجزی، اطاعت اور بندگی کی علامت ہے۔ حاجی اپنے بال کٹوا کر یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے جھکنے اور اپنی زندگی کو پاکیزہ انداز میں آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔


طوافِ زیارت / طوافِ افاضہ

طوافِ زیارت حج کا بنیادی رکن ہے۔ اسے طوافِ افاضہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ 10 ذوالحجہ سے شروع ہو کر بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ سہولت، صحت، رش اور گروپ انتظام کے مطابق جلد ادا کیا جائے۔ بعض گائیڈز کے مطابق طوافِ افاضہ حج کا لازمی رکن ہے جس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔

طوافِ زیارت کے لیے حاجی مسجد الحرام جاتا ہے اور خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگاتا ہے۔ اگر حاجی پر سعی باقی ہو، مثلاً حج تمتع میں حج کی سعی ابھی ادا نہیں کی، تو طواف کے بعد صفا مروہ کی سعی بھی کی جاتی ہے۔ اگر کسی نے پہلے ہی اپنے حج کی سعی کر لی ہو، تو فقہی تفصیل کے مطابق دوبارہ سعی لازم نہیں ہو سکتی؛ اس بارے میں اپنے حج طریقہ، یعنی تمتع، قران یا افراد، کے مطابق رہنمائی ضروری ہے۔

طوافِ زیارت کے بعد احرام کی باقی پابندیاں بھی ختم ہو جاتی ہیں، اور حاجی مکمل طور پر حلال ہو جاتا ہے۔ یہ لمحہ حاجی کے لیے بہت عظیم ہوتا ہے: عرفات کی دعا، مزدلفہ کی عاجزی، رمی کی اطاعت، قربانی کی تسلیم، حلق/قصر کی بندگی، اور پھر بیت اللہ کا طواف — یہ سب حج کے روحانی سفر کو مکمل کرتے ہیں۔


جمرات سے حرم شریف کا سفر

جمرات سے مسجد الحرام کا فاصلہ تقریباً 5 سے 7 کلومیٹر ہو سکتا ہے۔ حج کے دنوں میں یہ راستہ ہر شخص کے لیے ایک جیسا نہیں ہوتا، کیونکہ بعض راستے بند، یک طرفہ یا مخصوص گروپوں کے لیے مختص ہو سکتے ہیں۔ کئی حاجی جمرات کے بعد اپنے خیمے واپس جاتے ہیں، کچھ آرام کر کے طوافِ زیارت کے لیے نکلتے ہیں، اور کچھ اپنے گروپ شیڈول کے مطابق بس یا ٹرین کے ذریعے حرم جاتے ہیں۔

طوافِ زیارت کے لیے جاتے ہوئے حاجی کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ 10 ذوالحجہ بہت تھکا دینے والا دن ہوتا ہے۔ مزدلفہ کی رات، پیدل سفر، رمی، قربانی کی فکر، حلق/قصر اور پھر حرم تک جانا جسمانی طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔ اس لیے بزرگ، بیمار، خواتین اور کمزور افراد اپنے گروپ کے محفوظ وقت، کم رش والے شیڈول اور مناسب ٹرانسپورٹ کا انتظار کریں۔


10 ذوالحجہ کے اعمال کی آسان ترتیب

حاجی کے لیے پہلے دنِ عید کی سادہ ترتیب یوں ہے:

  1. مزدلفہ میں رات گزارنا
  2. فجر ادا کرنا اور دعا کرنا
  3. منیٰ/جمرات کی طرف روانہ ہونا
  4. جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں مارنا
  5. قربانی کرنا یا قربانی کی تصدیق حاصل کرنا
  6. حلق یا قصر کرنا
  7. احرام کی بڑی پابندیوں سے آزاد ہونا
  8. مسجد الحرام جا کر طوافِ زیارت کرنا
  9. ضرورت ہو تو سعی کرنا
  10. واپس منیٰ آ کر ایامِ تشریق کی راتیں گزارنا اور اگلے دنوں کی رمی کرنا

منیٰ سے سفر: ٹرین اور بسوں کی سہولت

حج کے دنوں میں منیٰ سے جمرات، مزدلفہ اور حرم شریف کی طرف جانے کے لیے مختلف سفری انتظامات کیے جاتے ہیں۔ حجاج کی سہولت کے لیے بعض گروپس کو مشاعر ٹرین کی سہولت دی جاتی ہے، جبکہ بہت سے حجاج اپنے معلم، مکتب یا حج کمپنی کے زیرِ انتظام بسوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔

Hajj 2026 Train Station Jamraat


مشاعر ٹرین خاص طور پر منیٰ، مزدلفہ اور عرفات کے درمیان حجاج کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ تاہم ہر حاجی کو ٹرین کی سہولت لازمی طور پر نہیں ملتی، بلکہ یہ سہولت پیکیج، مکتب، اجازت نامے اور انتظامی شیڈول کے مطابق ہوتی ہے۔

اسی طرح منیٰ سے جمرات یا حرم شریف جانے کے لیے بعض اوقات بسیں فراہم کی جاتی ہیں، مگر رش، روٹ کی بندش، سیکیورٹی انتظامات اور مقررہ اوقات کی وجہ سے سفر میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے حاجی کو چاہیے کہ اپنے گروپ لیڈر یا معلم کی ہدایات پر عمل کرے اور اکیلے سفر کرنے سے گریز کرے۔

بعض حجاج منیٰ سے جمرات تک پیدل بھی جاتے ہیں، کیونکہ خیمے کی جگہ کے مطابق جمرات کا فاصلہ کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ حاجی اپنے لیے آسان، محفوظ اور مقررہ راستہ اختیار کرے، پانی ساتھ رکھے، رش کے اوقات سے بچے اور صبر و سکون کے ساتھ مناسک ادا کرے۔


حج کے سفر میں ٹرین اور بسیں بڑی سہولت ہیں، لیکن اصل کامیابی نظم و ضبط، صبر، گروپ کے ساتھ رہنے اور عبادت کے جذبے کو برقرار رکھنے میں ہے۔

روحانی پیغام

مزدلفہ کی رات حاجی کو سکھاتی ہے کہ انسان اللہ کے سامنے فقیر ہے۔ جمرات کی رمی بتاتی ہے کہ شیطان کے وسوسوں کو زندگی سے نکالنا ہوگا۔ قربانی یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی محبوب چیز بھی قربان کی جا سکتی ہے۔ حلق یا قصر عاجزی اور بندگی کی علامت ہے۔ طوافِ زیارت اس بات کا اظہار ہے کہ بندہ اپنی زندگی کا مرکز اللہ کے گھر، اللہ کی رضا اور اللہ کی اطاعت کو بناتا ہے۔

حج صرف سفر نہیں، بلکہ دل کی تبدیلی کا نام ہے۔ جو حاجی مزدلفہ سے جمرات، جمرات سے قربانی، قربانی سے قصر، اور قصر سے طوافِ زیارت تک پہنچتا ہے، وہ دراصل اپنی زندگی کے ایک نئے باب تک پہنچتا ہے: گناہوں سے توبہ، نفس سے جہاد، شیطان سے بیزاری، اور اللہ تعالیٰ سے وفاداری کا باب۔

اللہ تعالیٰ تمام حجاج کا حج قبول فرمائے، ان کے سفر کو آسان کرے، ان کی قربانی، رمی، طواف، سعی، دعا اور عبادات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین۔

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

The DECE Way

 In today’s digital age, organizations are generating data at an unprecedented rate. From emails and documents to cloud storage and internal databases, the sheer volume of information can be overwhelming. However, having data is only half the battle; the real challenge lies in extracting meaningful insights quickly, securely, and efficiently. This is where DECE Software’s GEODI platform comes into play—a powerful solution designed to transform the way businesses manage, analyze, and leverage their data. GEODI is an advanced data discovery, search, and analytics platform that brings order to complex data ecosystems. Unlike traditional search tools that rely solely on keyword matching, GEODI uses artificial intelligence and natural language processing to understand the context of information, making searches intuitive and precise. Whether you are searching for a single document buried in thousands or analyzing trends across multiple datasets, GEODI delivers results in seconds,...

12 ذوالحجہ بروز جمعہ: حجاجِ کرام کے لیے نمازِ جمعہ، رمی، طوافِ زیارت اور سفری رہنمائی

12 ذوالحجہ حج کے اہم دنوں میں سے ایک ہے۔ اس دن حجاجِ کرام منیٰ میں قیام کے دوران رمیِ جمرات ادا کرتے ہیں، جبکہ جن حضرات کا طوافِ زیارت یا سعی باقی ہو وہ اس کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔ چونکہ اس موقع پر رش، آمدورفت اور مختلف فقہی مسائل سے متعلق سوالات بھی سامنے آتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ حجاج سکون، ترتیب اور معتبر رہنمائی کے مطابق اپنے اعمال مکمل کریں۔ جن حجاج نے قربانی اور حلق یا قصر مکمل کر لیا ہے، ان کے لیے احرام کی بیشتر پابندیاں ختم ہو چکی ہوتی ہیں اور تلبیہ بھی بند ہو جاتا ہے۔ تاہم طوافِ زیارت ادا ہونے تک ازدواجی تعلق سے متعلق پابندی باقی رہتی ہے۔ اسی طرح حدودِ حرم میں موجود ہونے کی وجہ سے حرم کی حرمت اور وہاں کے آداب کا احترام ہر حال میں ضروری ہے۔ اگر 12 ذوالحجہ جمعہ کے دن ہو اور حجاجِ کرام منیٰ میں موجود ہوں تو فقہِ حنفی کی رہنمائی کے مطابق منیٰ میں نمازِ جمعہ قائم کی جا سکتی ہے۔ حنفی فقہ پر عمل کرنے والے حجاج اپنے خیموں میں باجماعت نمازِ جمعہ کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ اگر خیمے میں کوئی عالمِ دین موجود ہو تو وہ خطبہ دے کر نمازِ جمعہ پڑھا دیں۔ عالمِ دین کی عدم موجودگی میں ایسا ...