12 ذوالحجہ حج کے اہم دنوں میں سے ایک ہے۔ اس دن حجاجِ کرام منیٰ میں قیام کے دوران رمیِ جمرات ادا کرتے ہیں، جبکہ جن حضرات کا طوافِ زیارت یا سعی باقی ہو وہ اس کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔ چونکہ اس موقع پر رش، آمدورفت اور مختلف فقہی مسائل سے متعلق سوالات بھی سامنے آتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ حجاج سکون، ترتیب اور معتبر رہنمائی کے مطابق اپنے اعمال مکمل کریں۔
جن حجاج نے قربانی اور حلق یا قصر مکمل کر لیا ہے، ان کے لیے احرام کی بیشتر پابندیاں ختم ہو چکی ہوتی ہیں اور تلبیہ بھی بند ہو جاتا ہے۔ تاہم طوافِ زیارت ادا ہونے تک ازدواجی تعلق سے متعلق پابندی باقی رہتی ہے۔ اسی طرح حدودِ حرم میں موجود ہونے کی وجہ سے حرم کی حرمت اور وہاں کے آداب کا احترام ہر حال میں ضروری ہے۔
اگر 12 ذوالحجہ جمعہ کے دن ہو اور حجاجِ کرام منیٰ میں موجود ہوں تو فقہِ حنفی کی رہنمائی کے مطابق منیٰ میں نمازِ جمعہ قائم کی جا سکتی ہے۔ حنفی فقہ پر عمل کرنے والے حجاج اپنے خیموں میں باجماعت نمازِ جمعہ کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ اگر خیمے میں کوئی عالمِ دین موجود ہو تو وہ خطبہ دے کر نمازِ جمعہ پڑھا دیں۔ عالمِ دین کی عدم موجودگی میں ایسا شخص جس کی قراءت درست ہو، نماز کے ضروری مسائل جانتا ہو اور عربی خطبہ پڑھ سکتا ہو، دو خطبے دے کر نمازِ جمعہ کی امامت کر سکتا ہے۔
اگر اپنے خیمے میں نمازِ جمعہ کا انتظام ممکن نہ ہو تو قریبی ایسے خیمے میں جا کر جمعہ ادا کیا جا سکتا ہے جہاں نماز قائم ہو رہی ہو۔ جو حجاج طوافِ زیارت، سعی یا کسی اور ضرورت کی وجہ سے حرم شریف میں موجود ہوں، وہ حرم شریف ہی میں نمازِ جمعہ ادا کریں۔ مسجدِ خیف کے متعلق موصولہ رہنمائی کے مطابق وہاں جمعہ کے بجائے ظہر کی نماز قصر ادا کرائی جاتی ہے؛ لہٰذا فقہِ حنفی کے مطابق جمعہ ادا کرنے کے خواہش مند حجاج قریبی خیموں میں قائم ہونے والی نمازِ جمعہ میں شریک ہو سکتے ہیں۔
یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ نمازِ جمعہ سے متعلق یہ ایک فقہی اور اجتہادی مسئلہ ہے۔ اس لیے کسی دوسرے حاجی سے اختلاف، بحث یا تلخ کلامی سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ ہر شخص اپنے معتبر علماء، مکتب یا فقہی رہنمائی کے مطابق عمل کرے اور حج کے ان مقدس دنوں میں باہمی احترام اور اخوت کو قائم رکھے۔
نمازِ جمعہ کے بعد 12 ذوالحجہ کا اہم عمل تینوں جمرات کی رمی ہے۔ اس دن رمی زوال کے بعد کی جاتی ہے۔ ترتیب یہ ہے کہ پہلے جمرہ اُولیٰ، اس کے بعد جمرہ وسطیٰ اور آخر میں جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماری جائیں۔ جمرہ اُولیٰ اور جمرہ وسطیٰ کی رمی کے بعد قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا مسنون ہے، جبکہ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد دعا کے لیے رکنا نہیں ہوتا۔
رمی مکمل کرنے کے بعد حاجی اپنی سہولت اور انتظامی ہدایات کے مطابق منیٰ واپس جا سکتا ہے یا اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہو سکتا ہے۔ جن حجاجِ کرام نے ابھی تک طوافِ زیارت اور سعی ادا نہیں کی، انہیں چاہیے کہ اس اہم عمل کی ادائیگی میں تاخیر نہ کریں اور اپنی فقہی رہنمائی کے مطابق مقررہ وقت کے اندر اسے مکمل کرنے کی کوشش کریں۔ طوافِ زیارت ادا ہونے کے بعد احرام سے متعلق باقی پابندی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ حج کے بنیادی اعمال مکمل ہونے کے باوجود مکہ مکرمہ سے آخری روانگی سے پہلے بیرونِ مکہ سے آنے والے حجاج کے لیے طوافِ وداع ادا کرنا باقی رہتا ہے۔
طواف کے لیے طہارت اور پاکیزگی کا خاص خیال رکھیں۔ وضو، جسم اور لباس کی پاکیزگی کے ساتھ طواف ادا کریں۔ خواتین کے لیے طواف کے وقت حیض یا نفاس سے پاک ہونا ضروری ہے۔ سعی کے لیے وضو ہونا بہتر ہے۔ رش کے دوران جلد بازی سے گریز کریں، کمزور اور بزرگ حجاج کا خیال رکھیں اور اپنے مکتب یا گروپ انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
سفری انتظامات کے حوالے سے حجاجِ کرام یہ بات پیشِ نظر رکھیں کہ منیٰ سے حرم شریف کے لیے عمومی بس سروس کی دستیابی حالات کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہے۔ فراہم کردہ تازہ اطلاع کے مطابق اس وقت منیٰ سے حرم کے لیے عمومی بس سروس دستیاب نہیں ہے، جبکہ منیٰ سے واپسی کے لیے متعلقہ مکتب کی بسیں ہی حجاج کو مقررہ مقام سے ان کی رہائش گاہ تک منتقل کریں گی۔ لہٰذا متبادل ٹرانسپورٹ تلاش کرنے میں پریشان ہونے کے بجائے اپنے مکتب کی ہدایات معلوم کریں، مقررہ مقام پر انتظار کریں اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔
جو حجاجِ کرام عزیزیہ میں اپنی رہائش گاہ سے رمیِ جمرات کے لیے جانا چاہتے ہیں، ان کے لیے عزیزیہ سے جمرات جانے والی شٹل بس کی سہولت بتائی گئی ہے۔ یہ بس حجاج کو جمرات کے دوسرے فلور تک پہنچائے گی، جہاں وہ رمی ادا کر سکیں گے۔
Azizia to Jamarat
2nd Floor Bus Station
لوکیشن:
https://maps.app.goo.gl/vNh9MMA85cWeU6yG6?g_st=ac
رمی مکمل کرنے کے بعد واپسی کے لیے ٹرین والے چوتھے فلور کی طرف جانا ہوگا۔ وہاں سے ہر حاجی اپنے متعلقہ مکتب کی ہدایات کے مطابق مطلوبہ فلور یا مقررہ مقام اختیار کر کے اپنی رہائش گاہ کی طرف واپسی کا انتظام کرے۔
حج کے یہ ایام عبادت، صبر، نظم اور باہمی تعاون کا تقاضا کرتے ہیں۔ حجاجِ کرام غیر ضروری پریشانی سے بچیں، سفر اور مناسک سے متعلق تازہ انتظامی معلومات اپنے مکتب یا گروپ انتظامیہ سے حاصل کرتے رہیں، اور کسی شرعی مسئلے کی صورت میں مستند عالمِ دین سے رہنمائی لیں۔
اللہ تعالیٰ تمام حجاجِ کرام کا حج قبول فرمائے، ان کے لیے مناسک آسان فرمائے اور انہیں صحت و سلامتی کے ساتھ اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment