Skip to main content

مشاعرِ مقدسہ میں 25 کلومیٹر طویل پیدل راستہ، حجاج کرام کے سفر میں بڑی سہولت

 مشاعرِ مقدسہ میں حجاج کے لیے 25 کلومیٹر طویل پیدل راستہ، عرفات سے منیٰ تک سفر میں بڑی سہولت

حج کے ایام میں لاکھوں فرزندانِ اسلام میدانِ عرفات، مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان سفر کرتے ہیں۔ اس عظیم اجتماع میں حجاج کی آسان، محفوظ اور منظم نقل و حرکت کے لیے مکہ مکرمہ کے مشاعرِ مقدسہ میں ایک طویل پیدل راستہ قائم کیا گیا ہے، جسے دنیا کے طویل ترین پیدل راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ راستہ عرفات میں جبلِ رحمت کے علاقے سے شروع ہو کر مزدلفہ سے گزرتا ہوا منیٰ تک پہنچتا ہے اور تقریباً 25 کلومیٹر پر محیط ہے۔ خصوصاً عرفات سے غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ کی جانب روانگی کے موقع پر بڑی تعداد میں حجاج اسی راستے سے سفر کرتے ہیں۔

یہ صرف ایک عام سڑک نہیں بلکہ حج کے عظیم اجتماع کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ایک منظم پیدل نظام ہے۔ راستے میں حجاج کی رہنمائی کے لیے واضح سائن بورڈز، روشنی کا مناسب انتظام، آرام کے لیے نشستیں، دھوپ سے بچاؤ کے لیے سایہ دار حصے اور گرمی کی شدت کم کرنے کے لیے پانی کے باریک چھڑکاؤ کے مقامات موجود ہیں۔

راستے کو گاڑیوں کی آمد و رفت سے محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی رکاوٹیں بھی لگائی گئی ہیں، تاکہ پیدل چلنے والے حجاج زیادہ اطمینان کے ساتھ اپنے مناسک کی ادائیگی کے لیے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچ سکیں۔ خصوصی ضروریات رکھنے والے افراد کے لیے سہولت فراہم کرنا بھی اس انتظام کا اہم حصہ ہے۔

حج کے دوران عرفات سے مزدلفہ اور پھر منیٰ کی جانب سفر ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ طویل پیدل راستہ لاکھوں حجاج کے لیے سہولت، حفاظت اور بہتر نظم و ضبط کا ذریعہ بنتا ہے۔

یہ منصوبہ اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ مقدس مقامات پر حجاج کرام کی خدمت، سلامتی اور آسانی کے لیے جدید انتظامات کو مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے، تاکہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین اپنے مناسک زیادہ سکون اور سہولت کے ساتھ ادا کر سکیں۔

Comments

Popular posts from this blog

حج کے ایامِ ذوالحجہ: مزدلفہ سے جمرات، رمی، طوافِ زیارت، قربانی اور قصر تک مکمل رہنمائی

  مقدس مقامات کے درمیان تقریبی فاصلے حج کے دنوں میں راستے، سیکیورٹی کنٹرول، بس/ٹرین اسٹیشن، گروپ روٹ اور پیدل چلنے کے راستے مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے فاصلے ہمیشہ تقریباً سمجھے جائیں۔ Hajj 2026 راستہ تقریباً فاصلہ منیٰ سے مزدلفہ 3 سے 5 کلومیٹر مزدلفہ سے جمرات 4 سے 6 کلومیٹر منیٰ کے خیموں سے جمرات 1.5 سے 4 کلومیٹر، خیمے کی جگہ کے مطابق جمرات سے مسجد الحرام 5 سے 7 کلومیٹر منیٰ سے مسجد الحرام 6 سے 9 کلومیٹر، راستے کے مطابق حج کے دنوں میں یہ فاصلے عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ رش، گرمی، انتظار، مخصوص راستے، پل، انڈر پاس، چیک پوائنٹس اور گروپ موومنٹ شامل ہو جاتی ہے۔ اسی لیے حاجی کو جسمانی تیاری، پانی، آرام، صبر اور اپنے معلم/گروپ کی ہدایات کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ مزدلفہ میں رات گزارنا 9 ذوالحجہ کو جب حجاجِ کرام عرفات میں وقوف مکمل کر کے مغرب کے بعد روانہ ہوتے ہیں تو ان کی اگلی منزل مزدلفہ ہوتی ہے۔ یہ حج کے سفر کا ایک نہایت بابرکت اور اثر انگیز مرحلہ ہے۔ مزدلفہ میں حاجی کھلے آسمان تلے قیام کرتا ہے، جہاں سادگی، عاجزی اور اللہ تعالیٰ کے حضور بندگی کا احساس اور ...

The DECE Way

 In today’s digital age, organizations are generating data at an unprecedented rate. From emails and documents to cloud storage and internal databases, the sheer volume of information can be overwhelming. However, having data is only half the battle; the real challenge lies in extracting meaningful insights quickly, securely, and efficiently. This is where DECE Software’s GEODI platform comes into play—a powerful solution designed to transform the way businesses manage, analyze, and leverage their data. GEODI is an advanced data discovery, search, and analytics platform that brings order to complex data ecosystems. Unlike traditional search tools that rely solely on keyword matching, GEODI uses artificial intelligence and natural language processing to understand the context of information, making searches intuitive and precise. Whether you are searching for a single document buried in thousands or analyzing trends across multiple datasets, GEODI delivers results in seconds,...

12 ذوالحجہ بروز جمعہ: حجاجِ کرام کے لیے نمازِ جمعہ، رمی، طوافِ زیارت اور سفری رہنمائی

12 ذوالحجہ حج کے اہم دنوں میں سے ایک ہے۔ اس دن حجاجِ کرام منیٰ میں قیام کے دوران رمیِ جمرات ادا کرتے ہیں، جبکہ جن حضرات کا طوافِ زیارت یا سعی باقی ہو وہ اس کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔ چونکہ اس موقع پر رش، آمدورفت اور مختلف فقہی مسائل سے متعلق سوالات بھی سامنے آتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ حجاج سکون، ترتیب اور معتبر رہنمائی کے مطابق اپنے اعمال مکمل کریں۔ جن حجاج نے قربانی اور حلق یا قصر مکمل کر لیا ہے، ان کے لیے احرام کی بیشتر پابندیاں ختم ہو چکی ہوتی ہیں اور تلبیہ بھی بند ہو جاتا ہے۔ تاہم طوافِ زیارت ادا ہونے تک ازدواجی تعلق سے متعلق پابندی باقی رہتی ہے۔ اسی طرح حدودِ حرم میں موجود ہونے کی وجہ سے حرم کی حرمت اور وہاں کے آداب کا احترام ہر حال میں ضروری ہے۔ اگر 12 ذوالحجہ جمعہ کے دن ہو اور حجاجِ کرام منیٰ میں موجود ہوں تو فقہِ حنفی کی رہنمائی کے مطابق منیٰ میں نمازِ جمعہ قائم کی جا سکتی ہے۔ حنفی فقہ پر عمل کرنے والے حجاج اپنے خیموں میں باجماعت نمازِ جمعہ کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ اگر خیمے میں کوئی عالمِ دین موجود ہو تو وہ خطبہ دے کر نمازِ جمعہ پڑھا دیں۔ عالمِ دین کی عدم موجودگی میں ایسا ...