حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے، جس کے لغوی معنی “قصد کرنا” یا “ارادہ کرنا” کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں، مخصوص ایام (8 سے 12 ذوالحجہ) کے دوران اللہ تعالیٰ کے گھر (خانہ کعبہ) کی زیارت کرنا اور وہاں مخصوص عبادات و مناسک سرانجام دینا حج کہلاتا ہے۔ یہ عبادت زندگی میں ہر اس عاقل اور بالغ مسلمان پر فرض ہے جو مکہ مکرمہ تک پہنچنے اور وہاں کے اخراجات اٹھانے کی مالی اور جسمانی طاقت (استطاعت) رکھتا ہو۔
مناسکِ حج (حج کے اہم مراحل)
حج کے مناسک ترتیب وار درج ذیل ہیں:
1. احرام باندھنا (8 ذوالحجہ)
حج کا آغاز احرام سے ہوتا ہے۔ مرد دو سفید بغیر سلی چادریں پہنتے ہیں اور خواتین سادہ شرعی لباس پہنتی ہیں۔ احرام باندھنے کے بعد حج کی نیت کی جاتی ہے اور تلبیہ (لبیک اللہم لبیک…) پڑھا جاتا ہے۔ اس کے بعد مکہ سے منیٰ کی طرف روانگی ہوتی ہے، جہاں حاجی 8 ذوالحجہ کا دن اور رات قیام کرتے ہیں۔
2. وقوفِ عرفات (9 ذوالحجہ – حج کا سب سے بڑا رکن)
9 ذوالحجہ کو تمام حاجی منیٰ سے میدانِ عرفات پہنچتے ہیں۔ یہاں قیام کرنا اور اللہ کے حضور دعا و استغفار کرنا حج کا سب سے اہم اور لازمی رکن ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “حج عرفہ ہی ہے”۔ یہاں زوالِ آفتاب سے لے کر غروبِ آفتاب تک وقت اللہ کی حمد و ثنا میں گزارا جاتا ہے۔
3. مزدلفہ میں رات گزارنا (9 ذوالحجہ کی رات)
غروبِ آفتاب کے بعد حاجی نمازِ مغرب پڑھے بغیر عرفات سے مزدلفہ کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں ملا کر پڑھی جاتی ہیں اور رات کھلے آسمان تلے گزاری جاتی ہے۔ یہیں سے جمرات (شیطانوں) کو مارنے کے لیے کنکریاں بھی جمع کی جاتی ہیں۔
4. رمی جمرہ عقبہ، قربانی اور حلق (10 ذوالحجہ)
10 ذوالحجہ (عید کا دن) حاجیوں کے لیے مصروف ترین دن ہوتا ہے:
- رمی (کنکر مارنا): صبح مزدلفہ سے واپس منیٰ آ کر صرف بڑے شیطان (جمرہ عقبہ) کو 7 کنکریاں ماری جاتی ہیں۔
- قربانی: کنکر مارنے کے بعد اللہ کی راہ میں جانور قربان کیا جاتا ہے۔
- حلق یا قصر: قربانی کے بعد مرد اپنا سر منڈواتے ہیں (یا بال کٹواتے ہیں) اور خواتین اپنے بالوں کے آخر سے ایک انچ کے برابر بال کاٹتی ہیں۔ اس کے بعد احرام کھول دیا جاتا ہے اور عام لباس پہن لیا جاتا ہے۔
5. طوافِ زیارت اور سعی (10 سے 12 ذوالحجہ)
حاجی مکہ مکرمہ جا کر خانہ کعبہ کا طوافِ زیارت کرتے ہیں (جو حج کا فرض رکن ہے) اور پھر صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سعی (سات چکر) کرتے ہیں۔ اس کے بعد واپس منیٰ لوٹ آتے ہیں۔
6. جمرات کی رمی (11 اور 12 ذوالحجہ)
حاجی 11 اور 12 ذوالحجہ کو منیٰ میں قیام کرتے ہیں اور ہر روز دوپہر کے بعد تینوں شیطانوں (چھوٹا، درمیانہ اور بڑا) کو 7، 7 کنکریاں مارتے ہیں۔
7. طوافِ وداع
حج کے تمام مناسک مکمل کرنے کے بعد، اپنے وطن روانہ ہونے سے پہلے حاجی آخری بار کعبہ کا طواف کرتے ہیں، جسے طوافِ وداع کہا جاتا ہے۔ یہ مکہ سے رخصتی کا طواف ہوتا ہے۔
خلاصہ
حج کا یہ مقدس سفر مسلمانوں کو مساوات، صبر اور ایثار کا درس دیتا ہے۔ رنگ، نسل اور زبان کے فرق کو مٹا کر ایک ہی لباس (احرام) میں لاکھوں انسانوں کا ایک خدا کے سامنے جھکنا اس بات کی گواہی ہے کہ اللہ کے نزدیک سب برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اخلاص کے ساتھ حجِ مبرور کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین

Comments
Post a Comment