حج کے دوران عازمینِ حج کے لیے رمی جمرات، قربانی، حلق یا قصر کے اوقات کی پابندی نہایت ضروری ہے۔ سعودی ہدایات کے مطابق ہر حاجی کو اپنے گروپ، مکتب یا حج کمپنی کی طرف سے دیے گئے وقت کے مطابق ہی مناسک ادا کرنے چاہئیں تاکہ رش، بدنظمی اور کسی بھی مشکل سے بچا جا سکے۔
رمی جمرات کے اوقات
سعودی تعلیمات کے مطابق 10 ذوالحجہ کو ہر مکتب یا گروپ کے لیے رمی جمرات کا وقت مخصوص ہو سکتا ہے۔ ہر عازمِ حج کو چاہیے کہ وہ اپنے مقررہ وقت سے پہلے جمرات کے لیے روانہ نہ ہو۔
حکومت اور حج انتظامیہ کی طرف سے گروپس کو مخصوص اوقات دیے جاتے ہیں، اس لیے عازمین کو اپنے معلم، گروپ لیڈر یا حج کمپنی کی ہدایات کے مطابق ہی رمی کے لیے جانا چاہیے۔
اہم ہدایت:
اپنے گروپ کے مقررہ وقت پر ہی جمرات جائیں اور رش والے اوقات سے بچیں۔
قربانی کا وقت
قربانی کے بارے میں سعودی اداروں کی طرف سے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ سرکاری اسکیم کے عازمین کے لیے قربانی کا وقت 10 ذوالحجہ، پہلے دن، شام 6 بجے تک مقرر ہو سکتا ہے۔
لہٰذا تمام عازمینِ حج کو چاہیے کہ وہ 10 ذوالحجہ کو شام 6 بجے سے پہلے اپنی قربانی کی رقم، اجازت یا متعلقہ عمل کو مکمل کر لیں، تاکہ مناسکِ حج کی ترتیب درست رہے۔
اہم ہدایت:
قربانی کے معاملے میں اپنی حج کمپنی، معلم یا سرکاری نمائندے کی ہدایات پر عمل کریں۔
حلق یا قصر کا وقت
قربانی مکمل ہونے کے بعد عازمِ حج حلق یا قصر کروا سکتا ہے۔ حلق کا مطلب سر کے بال مکمل منڈوانا ہے، جبکہ قصر کا مطلب بال چھوٹے کروانا ہے۔
سرکاری اسکیم کے عازمین کو چاہیے کہ 10 ذوالحجہ کو شام 6 بجے کے بعد حلق یا قصر کروا کر احرام کی پابندیوں سے باہر آئیں، بشرطیکہ قربانی کا عمل مکمل ہو چکا ہو۔
اہم ہدایت:
قربانی سے پہلے حلق یا قصر نہ کریں۔ پہلے قربانی کی تصدیق کریں، پھر حلق یا قصر کروائیں۔
عازمینِ حج کے لیے ضروری ہدایات
حج کے دوران ہر عمل مقررہ ترتیب اور ہدایات کے مطابق کریں۔
اپنے گروپ، معلم، مکتب یا حج کمپنی کی اطلاع کے بغیر اکیلے روانہ نہ ہوں۔
رمی جمرات کے لیے مقررہ وقت کی پابندی کریں۔
قربانی مکمل ہونے کی تصدیق کے بعد ہی حلق یا قصر کروائیں۔
رش، جلد بازی اور غلط معلومات سے بچیں۔
کسی بھی شک کی صورت میں صرف اپنے آفیشل گروپ لیڈر یا متعلقہ حج انتظامیہ سے رہنمائی لیں۔
خلاصہ
10 ذوالحجہ کو عازمینِ حج کے لیے رمی جمرات، قربانی اور حلق یا قصر انتہائی اہم مناسک ہیں۔ عازمین کو چاہیے کہ وہ سعودی ہدایات، حج مشن، وزارتِ مذہبی امور، معلم اور اپنی حج کمپنی کی رہنمائی کے مطابق عمل کریں۔ مقررہ اوقات کی پابندی نہ صرف انتظامی سہولت کے لیے ضروری ہے بلکہ عازمین کی حفاظت اور مناسک کی درست ادائیگی کے لیے بھی بہت اہم ہے۔
حجاجِ کرام سے گزارش ہے کہ ان ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
Thanks for sharing
ReplyDelete